سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان نے انکشاف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا تھا، جسے سی ٹی ڈی سندھ اور وفاقی حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی میں بے نقاب کیا۔
کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (CPNE) کے وفد کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات، افواجِ پاکستان کی خدمات کو خراج تحسین
ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ یہ نیٹ ورک بدین کے سماجی کارکن عبدالرحمٰن کے قتل کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا، جنہیں 18 مئی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ’’را‘‘ ایجنٹ سنجے سنجیو کمار عرف فوجی نے خلیجی ریاست میں مقیم پاکستانی سلمان اور ارسلان کو ایجنٹ بنایا، جنہوں نے کراچی میں ٹارگٹ کلرز کا ایک گروہ تشکیل دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’را‘‘ کی مالی اور لاجسٹک معاونت سے یہ نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا، فنڈنگ بینکنگ ترسیلات کے ذریعے فراہم کی جاتی تھی جبکہ کراچی میں دہشت گردوں کے لیے سیف ہاؤس بھی قائم تھا۔ گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ’’را‘‘ کی پشت پناہی میں قتل اور دہشت گردی کے منصوبوں کے لیے رقوم وصول کرتے رہے۔
ایڈیشنل آئی جی کے مطابق، گرفتار افراد کا تعلق کالعدم تنظیم ایس آر اے سے بھی ثابت ہوا ہے۔ ان کے قبضے سے نائن ایم ایم پستول، 30 بور پستول، 125 مارٹر شیل اور ایک بم برآمد کیا گیا۔ آزاد خان نے بتایا کہ ملزمان نے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے جبکہ بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم سلمان کی گرفتاری کے لیے وفاقی وزارت داخلہ سے رابطہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’’را‘‘ کی فنڈنگ اور دہشت گردی کی پشت پناہی کے شواہد اعلیٰ سطح پر اٹھائے جائیں گے، جبکہ مزید بڑی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ سی ٹی ڈی حکام نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
