بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ نے چند ماہ قبل چینی ساختہ پی ایل-15 میزائل کا کامیاب استعمال کرتے ہوئے بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرایا تھا، جس کے نتیجے میں خطے میں فضائی برتری کا توازن پاکستان کے حق میں بدل گیا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے اپنی نئی فضائی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں اہم گرفتاریاں
رپورٹ کے مطابق امریکی ایئر فورس اور نیوی نے لاک ہیڈ مارٹن کے خفیہ AIM-260 میزائل پروگرام کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست کی ہے۔ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والا جدید ہتھیار ایف-22 اور ایف-35 کے ساتھ ساتھ ایف-16 اور ایف-15 طیاروں میں بھی شامل کیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق امریکی ایئر فورس نے پیداوار کے لیے 36 کروڑ 80 لاکھ ڈالر اور اضافی 30 کروڑ ڈالر کی درخواست دی ہے، جبکہ نیوی نے 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مانگے ہیں۔ بجٹ کی یہ رقم مالی سال 2026 کے لیے طلب کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پروگرام 30 ارب ڈالر تک کا منصوبہ بن سکتا ہے اور لاک ہیڈ مارٹن کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ کمپنی کئی بڑے منصوبوں میں ناکامی اور اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد نئی کامیابی کی متلاشی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پی ایل-15 میزائل کے ذریعے 100 میل سے زیادہ فاصلے پر بھارتی طیاروں کو مار گرائے جانے کے بعد طویل فاصلے کے ہوائی ہتھیاروں پر دنیا بھر کی توجہ مرکوز ہوئی۔ چین نے گزشتہ سال پی ایل-17 کو بھی آپریشنل قرار دیا ہے جو 400 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی ایئر فورس کے مطابق "ہمارے ممکنہ مخالفین فضائی برتری کے جواب میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہے ہیں، اس لیے ایسا جدید میزائل تیار کرنا ناگزیر ہے جو ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کر سکے۔”
AIM-260 کی تیاری کو امریکا کا سب سے خفیہ اور اہم میزائل پروگرام قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں AIM-120 AMRAAM کی جگہ لے گا اور فضائی جنگ میں امریکا کو نئی برتری فراہم کرے گا۔
