نسلی منافرت اور نازیبا بیانات: ڈاکٹر عمر عادل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ہاتھوں گرفتار

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے آرتھوپیڈک سرجن اور سوشل میڈیا پر متنازعہ بیانات دینے والے ڈاکٹر عمر عادل کو گرفتار کر لیا۔

قومی استحکام کے لیے عوام اور سیاسی قیادت کو اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

حکام کے مطابق ڈاکٹر عمر عادل نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر نسلی منافرت پر مبنی باتیں کی تھیں اور ایک برادری کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کیے تھے۔ عوامی درخواست پر ایجنسی نے ان کے خلاف انکوائری شروع کی اور آج انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

ڈاکٹر عمر عادل اکثر حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر متنازعہ بیانات دے کر توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ خواتین کے خلاف نامناسب تبصروں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں رہ چکے ہیں اور سوشل میڈیا کے سنجیدہ حلقوں نے ان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی۔

جولائی 2024 میں ایک آن لائن ٹاک شو کے دوران انہوں نے صحافی خواتین اور میڈیا پروفیشنلز کے خلاف توہین آمیز اور جنس پرستانہ تبصرے کیے جس کے بعد ان کے بیانات پر ملک بھر میں شدید مذمت ہوئی۔ اسی واقعے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہوں نے معافی بھی مانگی تھی۔

اکتوبر 2024 میں سیشن عدالت نے ٹی وی میزبان عائشہ جہانزیب کی درخواست پر بنے سائبر کرائم کیس میں ڈاکٹر عمر عادل کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔

واضح رہے کہ متنازعہ بیانات پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر عمر عادل کو ماضی میں بھی قانونی کارروائی اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “نسلی منافرت اور نازیبا بیانات: ڈاکٹر عمر عادل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ہاتھوں گرفتار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!