کراچی: آتشبازی کے سامان میں بارودی مواد استعمال ہوتا ہے، واقعے میں غیرقانونی گودام کا انکشاف — راجہ عمر خطاب

کراچی: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے انچارج راجہ عمر خطاب نے کہا ہے کہ آتشبازی کے سامان کے نام پر دکانوں اور گوداموں میں خطرناک بارودی مواد رکھا جاتا ہے، جو کسی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔

کراچی میں بارش سے اربن فلڈنگ، سب سے زیادہ کوتاہی کے الیکٹرک کی رہی: شرجیل میمن

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ پٹاخے اور آتشبازی کا سامان کہلایا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اس میں بارودی مواد شامل ہوتا ہے۔ پچھلے برسوں میں بھی سی ٹی ڈی نے دو ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق ایک دکان میں 50 کلو سے زیادہ آتشبازی کا سامان رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اس کے لیے باقاعدہ ایس او پیز بھی موجود ہیں۔ ایسا سامان ہمیشہ پیٹرول پمپ اور رہائشی علاقوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔

راجہ عمر خطاب کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ اتھارٹیز اس کے لائسنس جاری کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ سامان درآمد بھی کیا جاتا ہے اور پنجاب و خیبر پختونخوا میں لائسنس یافتہ افراد اس کی تیاری اور فروخت کرتے ہیں۔ سندھ میں کسی بڑے پیمانے پر پٹاخے بنانے کا کارخانہ موجود نہیں ہے۔

سی ٹی ڈی انچارج نے کہا کہ ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ متاثرہ مقام پر 50 کلو سے کہیں زیادہ بارودی مواد رکھا گیا تھا۔ عوام اسے معمولی پٹاخہ سمجھ کر خطرہ محسوس نہیں کرتے، حالانکہ یہ انتہائی جان لیوا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق واقعے میں سامنے آیا ہے کہ غیر قانونی دکان اور گودام قائم تھے، جس کے نتیجے میں بھاری نقصان ہوا۔

59 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی: آتشبازی کے سامان میں بارودی مواد استعمال ہوتا ہے، واقعے میں غیرقانونی گودام کا انکشاف — راجہ عمر خطاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!