فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے پاک فوج کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ ان ہدایات کے تحت پاک فوج کی تمام فورسز امدادی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
کراچی میں ڈمپر حادثات کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست، رجسٹریشن اور فٹنس ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا
فیلڈ مارشل کے مطابق پاک فوج سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ اس سلسلے میں اضافی فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں، جبکہ فوج کے تمام افسران و جوان اپنی ایک دن کی تنخواہ متاثرین کی امداد کے لیے عطیہ کریں گے۔ علاوہ ازیں، 600 ٹن سے زائد راشن — جو تقریباً ایک دن کا فوجی راشن ہے — متاثرہ علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔
امدادی سرگرمیوں میں آرمی کے نائن یونٹ کا ریسکیو سنیفنگ ڈاگ یونٹ اور خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی شامل ہوں گے، جو سیلاب میں پھنسے افراد کو فوری طور پر نکالنے کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کور آف انجینئرز کو ہدایت دی ہے کہ پلوں کی مرمت ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے اور ضرورت پڑنے پر عارضی پل تعمیر کیے جائیں تاکہ امدادی سامان کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور آرمی ایوی ایشن کے یونٹ پہلے سے سیلاب زدہ علاقوں میں موجود ہیں اور فوری امداد پہنچا رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فوج خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے کھڑی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ "ہماری فوج کی موجودگی کا مقصد سیلاب متاثرین کی فوری مدد کرنا ہے، اور اس مشکل وقت میں ہم اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
