اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو سابق وزیراعظم عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور پنجاب کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت میں پیش ہوئے۔
پشاور ہائیکورٹ نے عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ عارضی طور پر معطل کردیا
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لاہور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں دیے گئے بعض مشاہدات پر سوال اٹھایا، جو عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کی بنیاد بنے تھے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کے کیس میں حتمی مشاہدات دینا قانونی طور پر سوالیہ نشان ہے اور سپریم کورٹ ایسے نتائج نہیں دے گی جو مقدمے کو متاثر کریں۔
عدالت نے فریقین کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ قانونی نکات پر تیاری مکمل کریں اور اگلی سماعت پر معاونت فراہم کریں۔ ایک موقع پر سلمان صفدر نے روسٹرم سے دلائل دینے کی اجازت مانگی، تاہم چیف جسٹس نے یہ استدعا مسترد کر دی۔
بعد ازاں بینچ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ عمران خان کی اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے وقت وہ نیب کی حراست میں تھے، اس لیے ان پر تشدد میں ملوث ہونے کا الزام بے بنیاد ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس سے قبل استغاثہ کے گواہوں اور پولیس افسران کے بیانات کی بنیاد پر ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی تھیں۔
