پشاور ہائیکورٹ نے عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ عارضی طور پر معطل کردیا

پشاور (اسٹاف رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے عارضی ریلیف دے دیا اور سینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا عمل روک دیا۔
امریکا کا بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے پاکستان کا ردعمل

جسٹس ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت میں بیرسٹر گوہر خان نے مؤقف اپنایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عمر ایوب اور شبلی فراز کی نشستیں خالی قرار دیں، حالانکہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ آئینی ہے اور اسمبلی رول 39 کے تحت منتخب ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے دونوں رہنماؤں کو نااہل قرار دیا، اس سے قبل 31 جولائی کو انسداد دہشتگردی عدالت نے انہیں اور دیگر پی ٹی آئی ارکان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بیرسٹر گوہر نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کسی رکن کو نااہل نہیں کرسکتا اور اس سے قبل بھی این اے ون چترال کے عبدالطیف کو اسی طرح نااہل قرار دیا گیا تھا۔

وکیل نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے 180 نشستیں جیتیں، اب صرف 77 رہ گئی ہیں، حکومت کسی اور جماعت سے اپوزیشن لیڈر لانا چاہتی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 اگست تک جواب طلب کیا اور آئندہ سماعت تک حکم امتناع جاری کردیا۔

62 / 100 SEO Score

One thought on “پشاور ہائیکورٹ نے عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ عارضی طور پر معطل کردیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!