کراچی (اسٹاف رپورٹر) — شہر قائد میں رواں سال جنوری سے جولائی کے دوران خونی ٹریفک حادثات میں 546 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ریسکیو حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 425 مرد، 51 خواتین، 51 بچے اور 19 بچیاں شامل ہیں، جبکہ 8 ہزار 136 شہری مختلف حادثات میں زخمی بھی ہوئے۔
سرجانی ٹاؤن میں موٹرسائیکل لفٹنگ گروہ گرفتار، چوری شدہ گاڑیاں اور پارٹس برآمد
ہیوی گاڑیوں کے باعث 165 شہری جاں بحق ہوئے جن میں سب سے زیادہ 62 افراد ٹریلر کی زد میں آئے۔ واٹر ٹینکر سے 37، ڈمپر سے 32 اور بس کی ٹکر سے 20 شہری زندگی کی بازی ہار گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہر میں بڑھتے حادثات کو روکنے کے لیے اپریل میں ٹریفک پولیس نے سخت روڈ سیفٹی قوانین نافذ کیے۔ ان قوانین کے تحت موٹرسائیکل سواروں کے لیے لین کی پابندی لازمی قرار دی گئی اور خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ موٹرسائیکل سواروں کو کوریئر ویو مررز اور ڈرائیونگ لائسنس ساتھ رکھنا لازمی ہوگا۔
مزید برآں گاڑیوں کے لیے جی پی ایس ٹریکر، ڈیش کیم، ریئر ویو کیم اور کیبن کیم نصب کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ سگنل توڑنے، اسپیڈ لمٹ اور لین کی خلاف ورزی پر خودکار چالان جاری ہوگا جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں پر اضافی 2500 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
