اسکردو (نمائندہ خصوصی): گلگت بلتستان کے خوبصورت سیاحتی مقام کچورا میں کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاح خاندان کے ساتھ رافٹنگ کے دوران افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ دریا کی تند و تیز موجوں نے تفریح کو المیے میں بدل دیا۔ حادثے میں ایک خاتون جاں بحق، ان کا شوہر تاحال لاپتہ، جبکہ دیور کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔
سچل پولیس کی بروقت کارروائی، ہوائی فائرنگ کرنے والے تین ملزمان گرفتار
حادثہ اس وقت پیش آیا جب خاندان کچورا کے قریب دریا میں رافٹنگ سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اچانک تیز بہاؤ کے باعث کشتی الٹ گئی اور تینوں افراد دریا میں بہہ گئے۔ خاتون کو شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ اسکردو منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئیں، جبکہ ان کے دیور کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ خاتون کا شوہر تاحال لاپتہ ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو 1122، مقامی غوطہ خوروں اور افراد نے امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ موقع پر موجود خاندان کے بزرگ افراد شدید غم کی حالت میں ہیں مگر ریسکیو ٹیم کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ لاپتہ نوجوان کی تلاش اب بھی جاری ہے اور خاندان کو ایک معجزے کی امید ہے۔
حکومتی اقدامات کی ضرورت
ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان واقعے کا فوری نوٹس لیں اور ریسکیو آپریشن کو دریا کے دونوں کناروں تک وسعت دی جائے۔ سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی، احتیاطی تدابیر، اور تربیت یافتہ گائیڈز کی موجودگی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
ماحولیاتی تبدیلی اور ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے دوران خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پیشگی وارننگ سسٹمز، جدید موسمیاتی اسٹیشنز، اور دریاؤں پر پیمائشی نظام نصب کرنا ہوگا تاکہ خطرات سے بروقت آگاہی مل سکے۔
سیاحوں کے لیے رہنمائی
سیاحتی مقامات پر بروشرز، سائن بورڈز، اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمات کا آغاز ناگزیر ہے۔ رافٹنگ اور دیگر خطرناک سرگرمیوں کے لیے حفاظتی آلات اور تربیت یافتہ افراد کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سیاحت محفوظ طریقے سے ممکن ہو سکے۔
