سندھ میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی و بحالی کے لیے سروے کا فیصلہ، سعید غنی کی زیر صدارت اہم اجلاس

کراچی (اسٹاف رپورٹر): وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت منگل کے روز صوبے بھر میں مخدوش اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں سے متعلق قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ بھر کی تمام خطرناک عمارتوں کا ازسرِ نو سروے کرایا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاک کالونی میں پولیس و رینجرز کا مشترکہ گشت، منشیات فروش علاقہ چھوڑنے پر مجبور

سعید غنی نے کہا کہ کچھ عمارتوں کو مبینہ طور پر غلط طریقے سے خطرناک قرار دیا گیا ہے، جس کی شکایات موصول ہوئی ہیں، اس لیے ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں موجود کمیٹیوں میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز، پاکستان انجنئیرنگ کونسل اور پاکستان کونسل آف آرکیٹیکٹ اینڈ ٹاؤن پلانرز کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔

اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ وسیم شمشاد، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو، آباد کے چیئرمین حسن بخشی، پی ای سی اور پی سی اے ٹی پی کے اراکین، اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اس وقت 588 عمارتیں مخدوش قرار دی گئی ہیں، جن میں سے 59 کو انتہائی خطرناک تصور کیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی نے بریفنگ میں بتایا کہ ان 59 میں سے 29 عمارتیں پہلے ہی خالی کروائی جا چکی ہیں اور وہاں کے رہائشیوں کا ڈیٹا بھی مرتب کیا گیا ہے، جبکہ باقی عمارتوں کو بھی جلد خالی کرایا جائے گا۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ پہلے مرحلے میں لیاری کے علاقے بغدادی سمیت خالی کرائی گئی 29 عمارتوں کے رہائشیوں کو سندھ حکومت 3 ماہ کا کرایہ ادا کرے گی۔ اس کے بعد پگڑی اور مالکانہ حقوق رکھنے والے افراد کے لیے کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی تاکہ ان کے لیے مناسب معاوضہ یا دیگر سہولیات کا انتظام کیا جا سکے۔

سعید غنی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مسئلے کا شفاف اور مستقل حل چاہتی ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول پبلک و پرائیویٹ سیکٹرز سے تجاویز طلب کی جا رہی ہیں۔ کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کی روشنی میں حکومت شارٹ اور لانگ ٹرم پالیسی مرتب کرے گی تاکہ رہائشیوں کی بحالی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیاد پر سروے رپورٹس کمشنر کراچی کو جمع کروائی جائیں، جو کمیٹی کو حتمی رپورٹ پیش کریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی ممبران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی شہری کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی اور قابلِ مرمت عمارتوں کو دوبارہ قابل رہائش بنایا جائے گا، جبکہ انتہائی مخدوش عمارتوں کو مرحلہ وار خالی کرا کر رہائشیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔

59 / 100 SEO Score

2 thoughts on “سندھ میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی و بحالی کے لیے سروے کا فیصلہ، سعید غنی کی زیر صدارت اہم اجلاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!