ایران کی نئی سفارتی تجویز، آبنائے ہرمز کی بحالی کو جوہری مذاکرات سے مشروط کر دیا

ایران نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے نئی شرائط پیش کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

شجاع آباد میں ایک ہی خاندان کے 9 نوجوانوں کی اجتماعی شادیاں، سادگی اور خاندانی اتحاد کی مثال

خبر رساں ادارے ایکسِیوس کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے واشنگٹن کو ایک نئی تجویز دی ہے جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت کو جوہری مذاکرات کے اگلے مرحلے سے مشروط کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ فی الحال امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کو مؤخر کیا جائے اور پہلے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کی بحالی پر توجہ دی جائے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تجویز مبینہ طور پر غیر رسمی سفارتی ذرائع کے ذریعے منتقل کی گئی ہے، تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے متعلق کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کی جاتی ہیں تو امریکا کے لیے ایران پر جوہری معاہدے کے حوالے سے دباؤ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

2 thoughts on “ایران کی نئی سفارتی تجویز، آبنائے ہرمز کی بحالی کو جوہری مذاکرات سے مشروط کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!