کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے آج آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن سے سی پی او آفس کراچی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وفد نے سندھ بالخصوص لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، ڈاکوؤں کی سرگرمیوں، بھتہ خوری اور اقلیتی برادری کے عدم تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
لیاری عمارت حادثہ: ایس بی سی اے افسران سمیت 10 ملزمان جیل منتقل
امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ
"ڈاکو راج، بھتہ مافیا اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ شریف شہری بالخصوص ہندو برادری خوف و ہراس کے باعث اپنے کاروبار اور گھروں کو چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہیں۔ مقامی معیشت، زراعت اور سماجی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر ہے۔”
انہوں نے کہا کہ فضیلہ سرکی اور پریا کماری جیسی معصوم بچیوں کا سالوں سے اغوا ہونا اور پولیس و ریاستی اداروں کی ناکامی انتہائی افسوسناک ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت، بشمول سراج الحق اور حافظ نعیم الرحمان نے امن کے قیام کے لیے دھرنے دیے، لیکن تاحال سندھ حکومت اور پولیس کی جانب سے ڈاکو راج کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آتا۔
کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ
"قبائلی تنازعات کی آڑ میں عام لوگوں کی زندگیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔ سردار پارلیمان میں ایک ساتھ ہوتے ہیں لیکن اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کے خلاف لڑاتے ہیں، جو سراسر ظلم اور سندھ دشمنی ہے۔ ایسے سرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔”
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ امن و امان کی بحالی، اقلیتوں کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے وفد کی تشویش کو سنجیدگی سے لینے کا وعدہ کیا۔
وفد نے اس موقع پر آئی جی سندھ کی والدہ کے انتقال پر تعزیت بھی کی اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔
ملاقات میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں میں حافظ نصراللہ چنا، محمد یوسف، علامہ حزب اللہ جکھروو اور زاہد حسین راجپر شامل تھے۔
