لکھنؤ/نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ "آپریشن سندور” میں براہموس میزائل کی کامیاب کارکردگی کے بعد 14 سے 15 ممالک نے اس جدید ترین میزائل کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ بیان انہوں نے لکھنؤ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران دیا۔
عمران خان کو سکون کی زندگی کی پیشکش تھی، مگر انہوں نے قید کو چُنا: صاحبزادے قاسم خان کا بیان
راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ براہموس میزائل کی تیاری کا مرکز لکھنؤ میں قائم کر دیا گیا ہے جس کا حال ہی میں انہوں نے اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے افتتاح کیا۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف دفاعی طاقت میں اضافہ کرے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
براہموس میزائل بھارت اور روس کے اشتراک سے تیار کردہ ایک جدید ترین سپرسانک میزائل ہے۔ یہ میزائل مختلف اقسام میں دستیاب ہے، جن میں شامل ہیں:
-
زمین سے زمین پر مار کرنے والا
-
فضا سے زمین پر
-
سمندر کی سطح سے زمین پر
-
اور سمندر کی سطح سے نیچے مار کرنے والا ورژن
اس میزائل کو دنیا کا سب سے تیز رفتار کروز میزائل قرار دیا جاتا ہے، جو اپنی رفتار، کم بلندی پر پرواز کرنے اور ریڈار سے بچنے کی صلاحیت کی وجہ سے میزائل شکن نظام سے بچ نکلنے میں انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ یہ میزائل روایتی اور جوہری ہتھیاروں کو انتہائی کم وقت میں دُور تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارت اس میزائل کی برآمد کے لیے پہلے ہی کچھ ممالک سے بات چیت کر چکا ہے، اور اب "آپریشن سندور” کے بعد اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں زیادہ اہمیت ملنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ براہموس کی مانگ کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس نوعیت کے اسلحے کی برآمد عالمی سفارتی اور سیکیورٹی شرائط سے مشروط ہوتی ہے۔
