کراچی (رپورٹ: نمائندہ جنگ) وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں بے گھر افراد کے حق میں عدالتی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا عندیہ دیا ہے۔
نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کی سرٹیفکیٹ تقسیم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کرپشن اس وقت سندھ کی ایک "فلورشنگ انڈسٹری” بن چکی ہے، جہاں اصول و ضوابط کے بجائے کرپشن کے معیار قائم ہو چکے ہیں۔ "ہم عدالتوں میں جانے کا سوچ رہے ہیں تاکہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جا سکے۔”
انہوں نے کہا کہ "المیہ یہ ہے کہ متاثرین کی مدد کے لیے بھی صوبائی این او سی درکار ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے، لیکن ہم اس شہر کے بیٹے ہونے کے ناطے جو کچھ ہو سکا، متاثرین کے لیے کریں گے۔”
تعلیم سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ "پاکستان نے خود کو سنوارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جب کراچی ترقی کرے گا، تب ہی پاکستان ترقی کرے گا۔”
خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ “اب کوٹہ سسٹم کے تحت کچھ نہیں ہوگا، اب قابلیت اور ہنر کو اہمیت حاصل ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، 100 بڑی یونیورسٹیوں نے ڈگری کی شرط ختم کردی ہے، اب تعلیم اس وقت مکمل ہوتی ہے جب عملی ہنر بھی ساتھ ہو۔”
وفاقی وزیر نے کہا کہ “ہمیں ایمانداری سے اگلے 100 سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے، آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ بنانا ہوگا، جیسے چین نے اپنی سوا ارب کی آبادی کو ترقی کا ذریعہ بنایا ہے۔”
