اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے پہلگام حملے سے متعلق اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر دہشتگرد واقعی پاکستانی تھے تو بھارت نے ان کے نام اور شواہد اب تک سامنے کیوں نہیں لائے؟
لیاری کے پانی و سیوریج مسائل کے حل کیلئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس
انٹرویو کے دوران بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پاکستان نے کبھی کسی گروہ کو بھارت پر حملے کی اجازت نہیں دی اور اگر ایسے الزامات ہیں تو شفاف تحقیقات کے لیے پاکستان ہمیشہ تیار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس جنگ میں 92 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانیاں دی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے، اور رواں برس بھی دہشتگردی کے شدید حملے جاری ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان خود اس عفریت سے بری طرح متاثر ہے۔
بلاول بھٹو نے بھارت کے ماضی کے متنازع واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2007 کے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھارتی سرزمین پر 40 پاکستانیوں کا قتل ہوا، مگر بھارت آج تک ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لا سکا۔ حتیٰ کہ اعترافی بیانات میں بھی رد و بدل کی گئی، جو انصاف کے عمل پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو تسلیم کرتی ہے، لیکن بھارت کی طرف سے الزام تراشی اور تحقیقات سے گریز افسوسناک رویہ ہے۔
بعد ازاں ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری اپنے پیغام میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ بھارتی عوام کے سامنے اپنی بات رکھنے سے نہیں گھبراتے، چاہے پلیٹ فارم منصفانہ ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے کا مقصد عوام، خصوصاً نوجوانوں تک امن کا پیغام پہنچانا ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاک-بھارت تعلقات کا نیا باب تب ہی کھلے گا جب نئی نسل ماضی کی زنجیروں کو توڑ کر مستقبل کی طرف دیکھے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جنگ، نفرت اور جنون کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ماحولیاتی تبدیلی، معاشی ناہمواری اور دہشتگردی جیسے چیلنجز کا مشترکہ حل ہی دونوں ممالک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
