کراچی (نمائندہ خصوصی): کراچی کے مصروف اور تاریخی تجارتی علاقے پاپوش نگر میں واقع "خلفائے راشدین چوک”، جو ماضی میں "خلافت چوک” کے نام سے جانا جاتا تھا، آج بدترین غفلت، عوامی بے حسی اور بلدیاتی اداروں کی ناکامی کی تصویر بن چکا ہے۔ یہ چورنگی اب کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کی آمدورفت ہوتی ہے۔
مستونگ میں دہشت گردوں کا حملہ، تحصیل دفتر اور بینک نذرِ آتش، ایک نوجوان شہید، دو دہشت گرد ہلاک
چورنگی پر خلفائے راشدینؓ کے اسمائے گرامی پر مشتمل بورڈ آج بھی نمایاں ہے، مگر اس کے نیچے گندگی، غلاظت اور کوڑے کے انبار اس مقدس نام کی توہین اور انتظامی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
یہ مقام پاپوش مارکیٹ کے عین سامنے واقع ہے جہاں اندرون و بیرونِ شہر سے آئے خریداروں کی بڑی تعداد روزانہ موجود رہتی ہے۔ ماضی میں یہ چوک صفائی، ترتیب اور مذہبی احترام کا مظہر تھا، لیکن آج صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں خلفائے راشدین کے اسمائے گرامی آویزاں ہیں، وہیں پاکستان کے موجودہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصاویر بھی نصب ہیں، لیکن افسوس کہ ان کے نیچے روزانہ کچرا پھینکا جا رہا ہے اور متعلقہ ادارے محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عوام اور حکومت، دونوں کی جانب سے مکمل بے حسی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور بلدیاتی ادارے ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست میں مصروف ہیں، لیکن اصل مسئلے کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔
ماہرینِ شہریات کے مطابق اگر شہر کے ایسے حساس، علامتی اور تاریخی مقامات کی دیکھ بھال نہیں کی جا سکتی، تو پورے شہر کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ صورتحال شہری وقار اور انتظامی اہلیت دونوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
شہریوں نے میئر کراچی، سندھ حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوراً اس تاریخی چورنگی کی صفائی و تزئین کا بندوبست کیا جائے تاکہ یہ مقام ایک بار پھر اپنے اصل وقار کے ساتھ عوام کے سامنے آ سکے اور شہرِ قائد کی شناخت قائم رہ سکے۔

