سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن واپسی پر فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "تشہیر کا طلب گار” قرار دیا ہے۔
محرم الحرام کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ ڈی آئی جی ایسٹ کی زیر صدارت اہم اجلاس
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹُرتھ سوشل” پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ "میکرون نے غلط دعویٰ کیا کہ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان سیزفائر کے لیے واپس جا رہا ہوں، حالانکہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ حقیقت اس سے کہیں بڑی ہے۔” ٹرمپ نے مزید کہا: "چاہے جان بوجھ کر ہو یا نہ ہو، میکرون ہمیشہ بات غلط ہی کرتا ہے، خبردار رہیں!”
یاد رہے کہ صدر میکرون نے پیر کے روز دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ میکرون کے مطابق یہ ملاقات اور مذاکرات کی جانب ایک قدم ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ ایران کے ساتھ ایٹمی تنازع کا "حقیقی خاتمہ” چاہتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف یا نائب صدر جے ڈی وینس کو ایران سے بات چیت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، "اگلے دو دنوں میں سب کچھ واضح ہو جائے گا، ابھی تک کسی جانب سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ نہیں ملا۔”
دوسری جانب، ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی جھڑپیں جمعے کے روز شروع ہوئیں، جن میں اب تک 220 سے زائد ایرانی شہری اور 24 اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا اور اس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں، جیسا کہ این پی ٹی (Non-Proliferation Treaty) کے تحت اس کا حق ہے۔
جبکہ اسرائیل خود اس معاہدے کا فریق نہیں اور مشرق وسطیٰ کا واحد جوہری طاقت والا ملک سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا:
“میں صرف جنگ بندی نہیں بلکہ مکمل خاتمہ چاہتا ہوں۔ ہم بہتر چیز پر غور کر رہے ہیں۔”
