تہران / یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) — ایران نے ہفتے کی شب اسرائیل کے خلاف نئے اور شدید میزائل و ڈرون حملوں کا آغاز کیا، جسے ایرانی عسکری قیادت نے "آپریشن یا علی ابن ابی طالبؑ” کا نام دیا ہے۔ یہ حملے "وعدہ صادق 3” آپریشن کا اگلا مرحلہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کی سازشیں ناکام، پاکستان گرے لسٹ میں شامل نہیں ہوا: وزیر دفاع خواجہ آصف
ایرانی ذرائع ابلاغ، بشمول مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، حملوں کا ہدف تل ابیب، حیفہ سمیت اسرائیل کے مختلف اسٹریٹجک مقامات تھے۔
پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے مطابق، اس کارروائی میں ایران کے جدید ترین بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جن میں عماد، قدر اور خیبر شکن شامل ہیں۔
میزائلوں کی تفصیلات:
عماد میزائل:
ایران کا پہلا مکمل گائیڈڈ بیلسٹک میزائل، جو 1,700 کلومیٹر رینج رکھتا ہے، مائع ایندھن پر مبنی ہے، اور 50 میٹر کی درستگی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قدر میزائل:
شہاب-3 کا جدید ورژن، 1,350 سے 1,950 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ۔ دو مرحلہ جاتی راکٹ سسٹم پر مشتمل، جس میں مائع و ٹھوس ایندھن کا امتزاج ہے۔ درستگی 100–300 میٹر تک محدود کر دی گئی ہے۔
خیبر شکن میزائل:
1,450 کلومیٹر رینج رکھنے والا درمیانی فاصلے کا میزائل، جو اسرائیل کے دفاعی نظام جیسے ایرو-3 اور ڈیوڈز سلنگ کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ MaRV ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو دشمن کے میزائل ڈیفنس کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایران کا مؤقف:
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن اسرائیل کی حالیہ فضائی جارحیت کا براہِ راست اور فوری ردعمل ہے، جس میں تہران و دیگر شہروں میں ایرانی شہریوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ فوجی افسران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق، حملے کا وقت جان بوجھ کر عید الغدیر کے مقدس دن کے موقع پر چُنا گیا تاکہ اس کی علامتی و مذہبی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔
عالمی ردعمل اور تجزیے:
بین الاقوامی مبصرین اور فوجی تجزیہ کاروں نے اس کارروائی کو ایران کی طرف سے اسرائیل پر سب سے بڑا براہِ راست میزائل حملہ قرار دیا ہے۔
اس میں بیک وقت کئی میزائل سسٹمز کا استعمال کیا گیا، جس سے اسرائیلی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایرانی عسکری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو آپریشن کی اگلی لہریں مزید شدید اور دور رس نتائج کی حامل ہوں گی
