کراچی: محکمہ پاپولیشن ویلفیئر سندھ میں مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کے ہوش ربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گریڈ 17 کے افسر سرفراز لغاری کو غیرقانونی طور پر چار ڈی ڈی اوز (Drawing and Disbursing Officers) کا اختیار سونپا گیا، جبکہ یہ اختیارات قانوناً گریڈ 19 کے افسر کے پاس ہونے چاہییں۔
کچہ کے دو بدنام ڈاکو شبیر لٹھانی اور رستم لٹھانی نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے
مالی بے ضابطگیوں کی تفصیل:
-
سیکریٹری آفس نے ایک سال میں 14 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد فیول خرچ کیا۔
-
دفتر کی اسٹیشنری پر سالانہ 95 لاکھ 69 ہزار روپے خرچ ظاہر کیے گئے۔
-
چائے، جھاڑو، پوچا جیسے معمولی اخراجات کو ملا کر سالانہ 90 کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ ظاہر کیا گیا۔
-
پرائیویٹ بلڈنگ کا کرایہ 1 کروڑ 39 لاکھ روپے، جبکہ ایک ہی فلور پر واقع ڈائریکٹر آفس کے لیے 1 کروڑ 77 لاکھ روپے کرائے کی مد میں لیے گئے۔
-
سیکریٹری اور ڈائریکٹر کے جنریٹرز کے لیے الگ الگ 16 لاکھ 52 ہزار روپے سالانہ اخراجات دکھائے گئے۔
-
صرف ڈائریکٹر کی گاڑیوں پر 89 لاکھ 98 ہزار روپے کا سالانہ فیول خرچ ہوا۔
اہم انکشاف:
سی آئی پی پروجیکٹ کا ڈی ڈی او بھی سرفراز لغاری کے پاس ہے، جبکہ وہ صرف گریڈ 17 کے افسر ہیں۔ مزید برآں، سیکریٹریٹ آفس کی موجودگی کے باوجود اسے پرائیویٹ بلڈنگ میں منتقل کیا گیا جس کا سالانہ کرایہ کروڑوں میں ظاہر کیا گیا۔
افسران کا موقف:
ادارے کے اعلیٰ افسران ایڈیشنل سیکریٹری فرحان اور اکاؤنٹ آفیسر سرفراز لغاری نے اس حوالے سے اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا۔
نتیجہ:
ذرائع کے مطابق محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر کا بجٹ سندھ کے باقی 29 اضلاع کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اس ساری صورتحال نے سندھ حکومت کے مالی نظم و ضبط پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

