نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) پہلگام واقعے کے بعد مودی حکومت اور انتہا پسند ہندو وزرا سخت دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا ہاؤسز اور عوام کی جانب سے مودی سرکار سے کڑے سوالات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، جبکہ حکومت خاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔
کراچی: بھینس کالونی میں تین منزلہ عمارت گر گئی، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
سوالات کا محور یہ ہے کہ دہشت گرد جدید اسلحہ کے ساتھ بھارت کے انتہائی محفوظ علاقوں میں 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے سیاحتی مقام پہلگام تک کیسے پہنچے؟ سیاحوں کی سیکیورٹی کے لیے مناسب اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟ انٹیلی جنس کی اتنی بڑی ناکامی پر کسی ذمہ دار کو اب تک کٹہرے میں کیوں نہیں لایا گیا؟
عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے مودی حکومت اس واقعے کو "فالس فلیگ آپریشن” کے پروپیگنڈے سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر بھارتی عوام اور تجزیہ کار اس بیانیے کو مسترد کر چکے ہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی خاموشی نہ صرف شرمندگی کا باعث ہے بلکہ اس سے عوامی اعتماد میں بھی شدید کمی آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ پہلگام واقعہ ممکنہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے رچایا گیا ایک منصوبہ تھا۔
اب بھارتی میڈیا اور عوام مودی سے جواب چاہتے ہیں، خاموشی یا پروپیگنڈا نہیں۔
