بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کے بعد چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح 125 فیصد کر دی ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر نے چین پر عائد 125 فیصد ٹیرف میں مزید 20 فیصد اضافہ کرتے ہوئے مجموعی ٹیکس کی شرح 145 فیصد تک پہنچا دی تھی، جس کے بعد چین نے اپنے اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورنگی کازوے پل کی تعمیر سے متعلق اجلاس
چینی حکام نے ٹیرف میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چین امریکی ٹیرف کے مقابلے میں آخری دم تک اپنا ردعمل دے گا۔ چینی حکام نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے محصولات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو ٹرمپ کا ٹیرف جنون عالمی معاشی تاریخ کا مذاق بن کر رہ جائے گا۔
اس سے قبل چین نے امریکی مصنوعات پر 85 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا، جسے اب بڑھا کر 125 فیصد کر دیا گیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ چین کے یہ اقدامات امریکا کے عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی پر ردعمل ہیں اور چین اپنے مفادات کا دفاع کرنے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چینی ٹیرف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چین کا یہ عمل دراصل خود چین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا اور اس کے اقتصادی اثرات دونوں ممالک پر منفی اثر ڈالیں گے۔
