وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز این آئی سی وی ڈی کے بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ارکانِ اسمبلی سعدیہ جاوید، رخسانہ پروین، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، پروفیسر شاہد سمیع، مشتاق چھاپرا، ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
سندھ حکومت کا عیدالفطر 2025 کے لیے سیکیورٹی پلان تیار کرنے کا حکم
این آئی سی وی ڈی کو مزید بہتر بنانے کا عزم
اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی کو سندھ حکومت کا ایک بہترین اسپتال قرار دیتے ہوئے اس میں مزید بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا۔
2024 میں مریضوں کے علاج کی تفصیلات
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ سال 2024 میں این آئی سی وی ڈی میں 13,87,584 مریضوں کا علاج کیا گیا، جس میں 9,925 پرائمری پی سی آئی، 3,859 ارلی انویزیو، 760 الیکٹو انجیوگرافی، 18,017 کورونری انجیوگرافی، 2,061 اوپن ہارٹ سرجری، 75 اسٹروک انٹروینشنز، 1,691 پیڈیاٹرک انٹروینشنز، 1,424 پیڈیاٹرک کارڈیک سرجری، 291 پی ٹی ایم سی اور 29 ٹی اے وی آئی شامل ہیں۔
بچوں کے لیے 300 بستروں کا نیا یونٹ
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ این آئی سی وی ڈی میں بچوں کے لیے 300 بستروں پر مشتمل ایک فلور رواں سال مکمل کر کے فعال کیا جائے۔
او پی ڈی بلاک اور دیگر تعمیرات
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کا نیا او پی ڈی بلاک جولائی یا اگست 2025 تک مکمل ہونا چاہیے۔ اس بلاک کی تعمیر پر ایک بلین روپے لاگت آئے گی۔ مزید برآں، ایک نجی ڈونر کی مدد سے اسپتال میں پرائیوٹ وارڈ اور سی سی یو تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ مریضوں کے ساتھ آنے والے افراد کے لیے بیٹھنے کی جگہ بھی مخیر حضرات کے تعاون سے بنائی جا رہی ہے۔
مالی مسائل اور بجٹ میں اضافہ
اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ این آئی سی وی ڈی کا سالانہ بجٹ 9 بلین روپے ہے، جبکہ 2 بلین روپے کا خسارہ درپیش ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اس سال این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کا بجٹ بڑھا کر 20 بلین روپے کر دیا گیا ہے۔
این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کا انضمام
وزیراعلیٰ سندھ نے فیصلہ کیا کہ این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کو ضم کیا جائے، جس سے فنڈز کے خسارے کو پورا کیا جا سکے گا اور اضافی بچنے والے فنڈز اسپتال کی پچھلی واجبات کی ادائیگی میں استعمال کیے جائیں گے۔ اگر اس کے باوجود مالی خسارہ باقی رہا تو حکومت اس کو پورا کرے گی۔
اسٹاف اور بزنس پلان سے متعلق فیصلے
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ این آئی سی وی ڈی کا اضافی اسٹاف بلدیہ کو ٹرانسفر کیا جائے کیونکہ وہاں ضرورت سے زیادہ ملازمین موجود ہیں۔ مزید برآں، نئی بھرتیاں نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تین ماہ کے اندر این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کے انضمام کے لیے ایک مکمل بزنس پلان بنانے اور ایک پروفیشنل کنسلٹنٹ ہائر کرنے کی ہدایت دی۔
ملازمین کے قواعد و ضوابط
اجلاس میں این آئی سی وی ڈی بورڈ نے ملازمین کی تقرری اور ترقی کے قواعد وضع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں وزیر صحت، ایس اینڈ جی اے اور این آئی سی وی ڈی ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔
