کراچی میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سمی دین بلوچ سمیت متعدد افراد گرفتار

کراچی پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سمی دین بلوچ اور کئی دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ افراد بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی قیادت کی گرفتاریوں اور کوئٹہ دھرنے پر کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
بنگلا دیشی کرکٹر تمیم اقبال دل کے دورے کے بعد اسپتال میں زیر علاج

احتجاج اور گرفتاریوں کی تفصیل

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کراچی پریس کلب پر احتجاج کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دیگر 16 کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ تاہم، پولیس نے مظاہرین کو فوارہ چوک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا۔

مقدمہ اور قانونی کارروائی

پولیس نے دفعہ 188 کے تحت سمی بلوچ اور 5 دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

سندھ حکومت کے مطابق، گرفتار افراد کراچی میں سڑکیں بند کرنے اور دھرنے دینے کے لیے عوام کو اکسا رہے تھے۔

آئی جی سندھ نے ان افراد کی 30 دن کے لیے حراست کی سفارش کی، جسے حکومت نے منظور کر لیا۔

حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ ان افراد کی موجودگی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

مزید گرفتاریاں اور پولیس کا موقف

پیر کے روز گرفتار کیے گئے دیگر افراد میں عبدالوہاب، مصطفیٰ علی، شہزاد رب، حمزہ افتخار اور سلطان ہمال شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً 35 سے 40 مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر فرار ہو گئے۔

یہ گرفتاری بلوچ یکجہتی کمیٹی کی حالیہ احتجاجی سرگرمیوں پر کیے گئے کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان اور تنظیمیں ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

62 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!