پولیس نے ملزم کامران اصغر قریشی کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سماعت کے آغاز پر عدالت نے ملزم سے دریافت کیا کہ آیا اس پر پولیس نے تشدد کیا ہے؟ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ اس کے جسم کے نازک حصوں پر تشدد کیا گیا ہے، جس پر عدالت نے عملے کو ہدایت دی کہ ملزم کو چیمبر میں لے جا کر اس کا معائنہ کیا جائے۔
جاپان فیفا ورلڈکپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرنے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا
ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر شکیل عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے کیونکہ اسلحہ اور منشیات کی سپلائی سے متعلق تفتیش کرنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم انتہائی شاطر ہے اور پولیس سے تعاون نہیں کر رہا۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ کامران قریشی کو 18 مارچ کو گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کا بیٹا پہلے ہی گرفتار ہے، اور وہ اپنے بیٹے کے دفاع میں تھا۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے پراسیکیوشن، ججز اور میڈیا کو دھمکیاں دی ہیں۔ مزید کہا کہ مصطفیٰ عامر کے قتل کے بعد ملزم نے اپنے بیٹے کو روپوش ہونے کا کہا تھا، اور وہ سوشل میڈیا پر بھی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں کیس پراپرٹی بھی پیش کر دی۔
عدالت نے پولیس کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا اور اسے اپنے وکیل سے ملاقات کی اجازت بھی دے دی۔
عدالت میں پیشی کے دوران ملزم نے شکایت کی کہ اسے درج کی گئی ایف آئی آر نہ دکھائی گئی اور نہ ہی پڑھائی گئی۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اسے 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے وقت اس کے گھر کا دروازہ توڑ دیا گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا ملازم بھی اس وقت موجود تھا، لیکن اب وہ لاپتہ ہے۔
ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایجنسیاں بارہا ملزم کے گھر جاچکی ہیں مگر کچھ برآمد نہیں ہوا۔ اس پر عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کی جائے اور اس کا طبی معائنہ کروایا جائے۔
دریں اثنا، ملزم کامران قریشی نے عدالت میں اپنے رویے سے دل آزاری پر معذرت کر لی۔ اس کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ اگر اس کا بیٹا ارمغان کسی کے قتل میں ملوث ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔
