وفاقی شرعی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں خواتین کو وراثت کے حق سے محروم رکھنے کی غیر اسلامی روایت کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کی روایات، جن میں خواتین کو زبردستی یا جذباتی دباؤ کے ذریعے وراثت سے دستبردار کرایا جاتا ہے، غیر قانونی اور قابل سزا ہیں۔
بھارت میں بنگلہ دیشی مریضوں کے ویزوں میں کمی، چین نے خلا پُر کرنا شروع کر دیا
یہ فیصلہ جسٹس اقبال حمید الرحمٰن، جسٹس خادم حسین ایم شیخ اور جسٹس امیر محمد خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنایا۔ درخواست گزار سیدہ فوزیہ جلال شاہ نے بنوں میں رائج غیر اسلامی رسم و رواج کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس میں ان کی والدہ سیدہ افتخار بی بی کو ان کے والد اور شوہر کی وراثت سے محروم رکھا گیا تھا۔
عدالت نے حکم دیا کہ خواتین کو ان کے شرعی حقوق دیے جائیں اور متعلقہ حکام اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ مزید برآں، پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 498-اے کے تحت ایسے مقدمات میں فوجداری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے تاکہ مجرموں کو سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات اور آئینی اصولوں کے مطابق خواتین کے حقوق کی بحالی کی ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
