کراچی (اسٹاف رپورٹر) رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے ڈی جی کے ڈی اے کو ایک تحریری مراسلہ بھیج کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے اہم سوالات اٹھا دیے۔
نظام مصطفی کے نفاذ سے ہی ملک مسائل سے نکل سکتا ہے، سربراہ پاکستان سنی تحریک
خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ:
"یہ خط میں عوامی مفاد عامہ میں لکھ رہا ہوں تاکہ لوگ جائیداد کی خریدوفروخت میں کسی دھوکہ دہی کا شکار نہ ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل دستاویزات کی تصدیق کا حق ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جو حق معلومات کے دائرے میں آتا ہے۔
خواجہ اظہار الحسن نے اپنے مراسلے میں ڈی جی کے ڈی اے سے تین اہم سوالات کے جوابات طلب کیے ہیں تاکہ عوام کو جائیداد کی تصدیق کے عمل سے متعلق مکمل رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
خواجہ اظہار الحسن کے ڈی جی کے ڈی اے سے پوچھے گئے سوالات:
1۔ جائیداد کے دستاویزات، بشمول ملکیت، ٹائٹل، سیل ڈیڈز اور زمین کے ریکارڈ کی صداقت کی تصدیق کا سرکاری طریقہ کار کیا ہے؟
انہوں نے دریافت کیا کہ ایسے کون سے قانونی اقدامات یا پروسیجر ہیں جن کے تحت کوئی بھی شہری کسی پراپرٹی کے اصل یا جعلی ہونے کی تصدیق کر سکے؟
2۔ کے ڈی اے میں تصدیق کے لیے ممکنہ خریدار کو کون کون سے دستاویزات جمع کروانے کی ضرورت ہوتی ہے؟
انہوں نے واضح رہنمائی مانگی کہ عام شہری جب کسی پراپرٹی کی تصدیق کروانا چاہے تو اسے کون سی دستاویزات دینا ہوں گی؟
3۔ ایک عام خریدار کے لئے تصدیق کا عمل کتنے دنوں میں مکمل ہوتا ہے؟
انہوں نے پوچھا کہ پراپرٹی خریدنے والے شہری کو کتنے دن میں جواب ملے گا تاکہ وہ جلد فیصلے کر سکے؟
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ:
"عوامی مفاد کے پیش نظر معلومات فراہم کی جائیں کیونکہ سینکڑوں لوگ جعلی ایجنٹوں کے ذریعے جعلی اور جھوٹے دستاویزات کے ذریعے دھوکہ کھا چکے ہیں۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے حقوق کے تحفظ اور شفاف نظام کے قیام کے لیے کے ڈی اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح اور آسان طریقہ کار جاری کرے تاکہ عام شہری اپنے سرمایہ اور مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔
