پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں غیر ملکی قرضوں کے اعدادوشمار پر تفصیلی بریفنگ کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ڈالر کے اتار چڑھاؤ پر وزارت اقتصادی امور کی پیش گوئیوں کو غلط قرار دیا گیا۔
ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ 3 لاکھ 6 ہزار 300 روپے کا ہوگیا
اجلاس کی صدارت چیئرمین جنید اکبر نے کی، جس میں اراکین نے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور سود کی واپسی کے نظام پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عمر ایوب نے بتایا کہ 58 ارب روپے کا قرضہ ری شیڈول ہو چکا ہے، جو ہر صورت واپس کرنا ہوگا۔ جنید اکبر نے وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی و ترقیات کو بھی اجلاس میں طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں وزارت اقتصادی امور کے افسران کو 5 کروڑ 20 لاکھ روپے کے اعزازیے دینے کا معاملہ نمٹا دیا گیا، جبکہ وزارت خارجہ کے آڈٹ اعتراضات پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔
کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ کٹھمنڈو میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت نہ بنانے سے 18 کروڑ 10 لاکھ روپے کا نقصان کیوں ہوا؟ آڈٹ حکام نے بتایا کہ 2008 میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی تھی، لیکن فنڈنگ کی کمی کے باعث مکمل نہ ہوسکا۔
برلن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے 9 کروڑ 70 لاکھ روپے کی رسیدیں سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے، لندن اور پیرس میں 4 کروڑ 90 لاکھ روپے کی غیر قانونی تنخواہوں کی ادائیگی کے انکشافات بھی سامنے آئے۔ چیئرمین پی اے سی نے وزارت خزانہ کو 15 دن کے اندر اس معاملے کو حل کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں وزارت خارجہ کے افسران کو ڈبل ادائیگیوں کے معاملے پر بھی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ آڈٹ حکام کے مطابق، غیر ضروری ادائیگیوں کی مد میں 5 ملین روپے سے زائد کی رقم افسران کو منتقل کی گئی۔
چیئرمین پی اے سی نے اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈلائن دے دی۔
