کراچی مصطفیٰ عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان کے قبضے سے برآمد ہونے والے ممنوعہ اسلحے کی تحقیقات کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سے کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
افغان دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی، ایک اور دہشت گرد کی شناخت سامنے آگئی
ملزم کے ممنوعہ اسلحے کی چھان بین
تفتیشی ذرائع کے مطابق، ملزم ارمغان کے پاس یہ ممنوعہ اسلحہ کیسے پہنچا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے سی ٹی ڈی تحقیقات کرے گی۔ ماضی میں غیر قانونی اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث ملزمان سے بھی اس معاملے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔
برآمد شدہ اسلحہ اور تحقیقات
ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران امریکی ساختہ اسنائپر گن، ایم پی گن، اسرائیلی ساختہ رائفل اور 9 ایم ایم کی 2700 سے زائد گولیاں برآمد ہوئیں۔ یہ معاملہ مزید سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، کیونکہ اسلحے کی غیر قانونی اسمگلنگ اور ممکنہ نیٹ ورک کے انکشافات متوقع ہیں۔
قتل کیس کا پس منظر
ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس سے لاپتا ہوا تھا، جس کی گمشدگی کی رپورٹ اگلے روز والدہ نے درج کرائی۔
قتل کی تفصیلات اور ملزم کا اعتراف
اے وی سی سی، سی پی ایل سی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں ملزم کے دوست شیراز کو گرفتار کیا گیا، جس نے اعتراف کیا کہ:
ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو اپنے گھر میں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔
لاش کو اس کی گاڑی میں حب لے جاکر نذرِ آتش کر دیا۔
مزید تحقیقات جاری
اس کیس میں مزید پیشرفت متوقع ہے، اور سی ٹی ڈی کی تحقیقات سے ممنوعہ اسلحے کے نیٹ ورک سے متعلق اہم شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔
