ویب ڈیسک،
اسلام آباد: پاک افغان تناؤ میں کمی پر بات کرنے کے لئےافغان عبوری حکومت کا سینئر وفد دفتر خارجہ پہنچ گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاک افغان کے دو طرفہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، افغان وفد 9 سے 10 اراکین پر مشتمل ہے جس کی قیادت سینئر طالبان رہنما اور گورنر قندھار ملا شیرین اخوند کررہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ وفد میں افغان وزارت دفاع، وزارت اطلاعات اور انٹیلی جنس حکام شامل ہیں جبکہ پاکستانی وفد میں افغان نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی بھی شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان وفد کی دورہ پاکستان کے دوران عسکری حکام ودیگر سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاک افغان تناؤ میں کمی پربات چیت کی جا رہی ہے جبکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان افغانستان میں کالعدم گروہوں کی افغان سرزمین کے پاکستان مخالف استعمال کا معاملہ بھی بات چیت کا حصہ ہے۔
سفارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں پاکستانی حکام کی جانب سے افغانستان میں موجود حافظ گل بہادر سمیت کالعدم دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ بھی متوقع ہے۔
