وزیراعظم شہباز شریف نے ڈی جی ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر کو عہدے سے ہٹانے کی ہدایت جاری کر دی۔ یونان کشتی حادثے کی تفصیلی رپورٹ پیش نہ کرنے اور دیگر اہم انکوائریز کو بروقت مکمل نہ کرنے پر وزیراعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔
ایسٹ پولیس کی کامیاب کارروائی، فیکٹری میں چوری کرنے والا ملزم گرفتار
اہم نکات:
ڈی جی ایف آئی اے کی برطرفی:
احمد اسحاق جہانگیر نے جنوری 2023 میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ تاہم، کارکردگی سے غیر مطمئن ہونے پر ان کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔
نئے ڈی جی ایف آئی اے کے لیے امیدوار:
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نئے ڈی جی ایف آئی اے کے لیے افسران کی شارٹ لسٹنگ شروع کر دی ہے۔ زیر غور ناموں میں سلمان چودھری، ڈاکٹر عثمان انور، اور راجہ رفعت مختار شامل ہیں۔
تعیناتی کا عمل:
وزارت داخلہ کی جانب سے سمری کابینہ کو ارسال کی جائے گی، جس کے بعد نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔
آئی جی خیبرپختونخوا کو بھی ہٹایا گیا:
آئی جی کے پی اختر حیات کو امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ذوالفقار حمید کو آئی جی خیبرپختونخوا تعینات کر دیا گیا ہے۔
برطرفی کی وجوہات:
ذرائع کے مطابق، اختر حیات صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے میں ناکام رہے تھے۔
پس منظر:
نومبر 2024 میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران اختر حیات نے پولیس افسران کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کی ہدایت دی تھی۔
نتائج:
وزیراعظم کے ان اقدامات سے انتظامی معاملات میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ امن و امان اور تحقیقاتی امور کی کارکردگی میں تیزی لانے کی امید کی جا رہی ہے۔
