صدر مملکت آصف علی زرداری نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) ایکٹ ترمیمی بل 2025 پر دستخط کر دیے۔ بدھ کے روز ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر کے دستخط کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی خیبرپختونخوا عہدوں سے فارغ
اہم نکات:
ترمیمی بل کا پس منظر:
حکومت نے 23 جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی سے منظور کیا اور بعد ازاں سینیٹ سے منظوری کے بعد ایوان صدر ارسال کیا گیا تھا۔
ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی (DRPA) کا قیام:
اتھارٹی سوشل میڈیا مواد کو ریگولیٹ کرے گی اور غیر قانونی مواد کو بلاک یا محدود کرنے کی مجاز ہوگی۔
چیئرپرسن اور 6 اراکین پر مشتمل اتھارٹی کے فیصلے اکثریتی رائے سے کیے جائیں گے۔
غیر قانونی مواد کی تعریف میں توسیع:
اسلام مخالف، ملکی سلامتی کے خلاف مواد، غیر شائستہ یا غیر اخلاقی مواد شامل ہوگا۔
فحش مواد، جعلی خبریں، بلیک میلنگ، ہتک عزت، اور آئینی اداروں کے خلاف الزام تراشی پر پابندی ہوگی۔
سخت سزائیں:
جھوٹی خبر پھیلانے پر 3 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
حذف شدہ مواد شیئر کرنے پر بھی یہی سزا لاگو ہوگی۔
سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل:
ٹربیونل 90 دن میں کیسز نمٹانے کے پابند ہوں گے۔
ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف 60 دن میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA):
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ختم کرکے تمام اختیارات اور وسائل این سی سی آئی اے کو منتقل کیے جائیں گے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے کا عہدہ آئی جی پولیس کے برابر ہوگا۔
دیگر دستخط:
صدر مملکت نے ڈیجیٹل نیشن بل 2025 اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ترمیمی بل 2025 کی بھی توثیق کر دی۔
نتائج:
پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے نفاذ کے بعد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ سائبر کرائم سے متعلق معاملات کے لیے جدید انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا۔
