(تشکر نیوز) سینٹرل پولیس آفس کراچی میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت "پولیس 15” کی کارکردگی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی آئی جیز، ایڈمن کراچی، ٹی اینڈ ٹی، ہیڈکوارٹرز، فنانس، آئی ٹی، ایس ایس پیز پولیس 15، لیگل، ایم اینڈ پی آر، آپریشنز، ایم ٹی، پی ڈی آئی ٹی اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
پی پی پی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور سے سندھ حکومت کی ترجمان تحسین عابدی کی ملاقات
ایس ایس پی پولیس 15 کراچی نے اجلاس کو شعبے کی کارکردگی اور اصلاحات کی ضرورت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ گزشتہ سال پولیس 15 کو 20 لاکھ کے قریب کالز موصول ہوئیں، اور ٹیم کا ریسپانس ٹائم 5 سے 7 منٹ رہا۔ بعض ناگزیر وجوہات کے باعث جائے وقوعہ تک رسائی کا وقت بڑھ جاتا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیس 15 کے نظام کو اپ گریڈ کرنے اور اضافی نفری فراہم کرنے سے ریسپانس ٹائم اور ڈیٹا کلیکشن میں نمایاں بہتری آئے گی۔ موجودہ کمیونیکیشن نظام میں تاخیر کی ایک وجہ ہر ضلع کے لیے علیحدہ وائرلیس نیٹ ورک اور چینلز ہیں۔ ڈیجیٹل سینٹرلائزڈ سسٹم کے نفاذ سے کراچی بھر میں کمیونیکیشن مزید آسان ہوگی۔
آپریٹرز کو کالرز کے ساتھ گفتگو کا دورانیہ کم کرنے اور غیر ضروری الفاظ کے استعمال سے گریز کی تربیت دی جا رہی ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے پولیس 15 کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی فوری اور مؤثر کارروائیوں نے شہریوں کے جان و مال کو محفوظ بنایا ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی آئی ٹی کو نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے کمپیوٹر اور دیگر ضروری آلات فراہم کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید نفری جلد فراہم کی جائے گی۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیسنگ کے جملہ امور کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہمارا مشن ہے، اور پولیس 15 جرائم کے خلاف ایک مؤثر اور تیز ترین ہتھیار ہے۔
