کراچی: مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ مہاجر نظریے سے دستبردار کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، بانی متحدہ کے اقدامات کی کھل کر مخالفت کی، اور ساڑھے آٹھ سال جیل میں رہنے کے باوجود اپنے نظریے پر قائم رہا۔ وہ اتوار کو سندھ اربن گریجویٹ فورم کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام: طلبہ کی تعلیم و تربیت کا مثالی اقدام
آفاق احمد نے تقریب میں کہا کہ ہمیں عوامی سطح پر پروگرام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور پولیس کی جانب سے غیر ضروری پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیت کی شناخت ہر ایک کو ہضم نہیں ہوتی، لیکن مہاجروں کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔
پیپلز پارٹی پر سنگین الزامات
آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔ انٹرمیڈیٹ کے نتائج اور ایم ڈی کیٹ امتحانات میں بے ضابطگیاں معمول بن چکی ہیں۔ کراچی کے طلبہ کو جان بوجھ کر فیل کیا جا رہا ہے، جس سے ان کا تعلیمی مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں جانبداری اور کاپیوں کے عدم معائنے کی وجہ سے این ای ڈی یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں میں داخلے سے محروم طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
مہاجر سیاست پر دباؤ اور ایجنسیوں کی مداخلت
آفاق احمد نے کہا کہ ایجنسیوں نے ہمیشہ مہاجر سیاست کو دفن کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں کئی بار دھمکیاں دی گئیں اور جیل میں بھی ذہنی اذیت دی گئی تاکہ مہاجر نظریے کو ترک کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس میں سرکاری سرپرستی میں لگائے گئے نعروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تقریب کا اختتام
آفاق احمد نے مہاجروں کو متحد ہونے اور اپنے حقوق کے لیے جدو جہد کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر نظریہ نہ صرف ایک پہچان ہے بلکہ یہ ایک تحریک بھی ہے جو دباؤ کے باوجود جاری رہے گی۔
