تشکر نیوز: پشاور – صوبائی ایپکس کمیٹی نے ضلع کرم کے دونوں فریقین سے اسلحہ جمع کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کی، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، متعلقہ صوبائی وزراء، اعلیٰ سول و عسکری حکام، کور کمانڈر پشاور اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
پنجاب محکمہ خزانہ کا بڑا اقدام: کچے کے پولیس اہلکاروں کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کا اعلان
ایپکس کمیٹی نے کرم کے علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ دونوں فریقین رضاکارانہ طور پر 15 دن میں اسلحہ جمع کریں گے۔ اس کے علاوہ، یکم فروری تک تمام اسلحہ انتظامیہ کے حوالے کر دیا جائے گا اور علاقے میں قائم بنکر بھی مسمار کر دیے جائیں گے۔
کرم میں امن کی بحالی کے لیے پولیس اور ایف سی مشترکہ طور پر سیکیورٹی فراہم کریں گے اور ایئر سروس بھی شروع کی جائے گی تاکہ لوگوں کو مشکل علاقوں سے نکالنے میں آسانی ہو۔ اس دوران، سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
مزید برآں، ایپکس کمیٹی نے تیراہ اور جانی خیل میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور ان علاقوں میں عارضی نقل مکانی کا فیصلہ کیا۔