تشکر نیوز: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر بے چینی پھیل گئی ہے۔ بھارت اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے میڈیا کے ذریعے الزام عائد کر رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں نے اس سیاسی تبدیلی پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور ایک ہی سانس میں امریکہ، چین اور پاکستان کو اس کی ذمہ داری قرار دے دیا۔ بھارتی میڈیا نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کا مقصد حسینہ واجد کی حکومت کو غیرمستحکم کرنا اور اپوزیشن جماعت بی این پی کو بحال کرنا ہے، جو کہ پاکستان کی حامی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف: سوشل میڈیا کی انتشار انگیزی سے ملک میں تقسیم بڑھ رہی ہے
مزید برآں، بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چین نے بھی آئی ایس آئی کے ذریعے مظاہروں کو بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے حسینہ واجد ہندوستان فرار ہونے پر مجبور ہوئیں۔
اس حوالے سے، سابق سیکرٹری خارجہ شمشیر مبین چوہدری نے بھارتی تجزیہ کاروں کے الزامات کا سخت جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ مخالف ہر فرد کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دینا بنگلہ دیش کے بارے میں بھارتی میڈیا کی لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔
چوہدری نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کے موجودہ حالات کا الزام آئی ایس آئی پر لگانا، اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی ناکام خارجہ پالیسیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔
سابق سیکرٹری خارجہ نے بیان کیا کہ بھارت کی بے جا حمایت اور بنگلہ دیش کے معاملات میں مداخلت نے بھی شیخ حسینہ واجد کے زوال میں اہم کردار ادا کیا۔ بھارت 14 سال تک شیخ حسینہ واجد کی حکومت کی پشت پناہی کر رہا تھا، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں جمہوریت کی تباہی میں بھارت بھی برابر کا شریک ہے۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی شخصی آمریت کی زیر قیادت عوامی لیگ کی حکومت کی تبدیلی اب بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئی ہے۔
