جرمن وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جرمنی میں امریکی فوجیوں کی موجودگی نہ صرف جرمنی بلکہ امریکا کے مفاد میں بھی ہے، تاہم یورپی ممالک کو اب اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔
اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال اور امن و استحکام پر تبادلۂ خیال
اپنے بیان میں جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ امریکا جرمنی سے اپنی فوجوں کی تعداد میں کمی کرے گا، اسی لیے جرمنی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے افواج کی تعداد میں اضافہ اور جدید دفاعی سازوسامان کی خریداری پر توجہ دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو اجتماعی دفاع کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں “گروپ آف فائیو” سمیت اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون کی جانب سے جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا گیا ہے، جسے یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کی پہلی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان ایران جنگ اور عالمی سیکیورٹی پالیسی پر اختلافات کے بعد سامنے آیا۔
پینٹاگون کے مطابق واشنگٹن یورپی اتحادیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ خصوصاً نیٹو کے تناظر میں اپنی سیکیورٹی کے لیے زیادہ مالی اور عسکری کردار ادا کریں۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک یورپ میں تقریباً 68 ہزار امریکی فوجی مستقل طور پر تعینات تھے، جبکہ مختلف فوجی مشنز اور مشترکہ مشقوں کے لیے اضافی دستے بھی وقتاً فوقتاً بھیجے جاتے رہے ہیں۔ یورپ میں امریکی فوجی موجودگی 31 مستقل اڈوں اور 19 اضافی مقامات پر مشتمل ہے جہاں امریکی محکمہ دفاع کو رسائی حاصل ہے۔
