برطانوی نمائندہ خصوصی کے ریمارکس مسترد، پاکستان کا دہشت گردی اور سرحدی دراندازی پر دوٹوک مؤقف

دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان نے افغانستان کے لیے برطانوی نمائندہ خصوصی کے پاک افغان سرحد سے متعلق ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے یک طرفہ بیانات زمینی حقائق سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔
جرمنی میں امریکی فوجیوں کی موجودگی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، جرمن وزیر دفاع

ترجمان دفتر خارجہ نے برطانوی نمائندہ خصوصی کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت مارچ میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی اور جارحانہ کارروائیاں مسلسل جاری رہیں۔

ترجمان کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ ان کی حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز ملک کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں اب تک 15 شہری شہید جبکہ 84 زخمی ہو چکے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے اور افغان طالبان کی پوسٹوں سے حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے متعدد دراندازی کی کوششیں بھی ناکام بنائیں۔

ترجمان نے افغان حکام کے شہری ہلاکتوں سے متعلق دعوؤں کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دہشت گردی کی اصل وجوہات کو نظر انداز کرتے ہیں اور حقائق پر مبنی متوازن مؤقف پیش نہیں کرتے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو بہتر انداز میں سمجھا جائے، کیونکہ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔

One thought on “برطانوی نمائندہ خصوصی کے ریمارکس مسترد، پاکستان کا دہشت گردی اور سرحدی دراندازی پر دوٹوک مؤقف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!