ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں واشنگٹن ڈی سی کے ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ وائٹ ہاؤس میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، تاہم سابق امریکی صدر مکمل طور پر محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔
کراچی ملیر میں گٹکا ماوا کے خلاف کریک ڈاؤن، گھر میں قائم فیکٹری بے نقاب، 4 ملزمان گرفتار
امریکی میڈیا کے مطابق تقریب میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اچانک فائرنگ جیسی آوازیں سنائی دیں۔ تقریب میں 2600 سے زائد افراد شریک تھے، اور صورتحال بگڑتے ہی شرکاء نے فوری طور پر میزوں کے نیچے پناہ لے لی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے یو ایس سیکریٹ سروس کی مدد سے ڈونلڈ ٹرمپ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق مشتبہ حملہ آور مرکزی داخلی دروازے کے میگنیٹو میٹر کی جانب بھاگا اور اس دوران اس نے ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو دبوچ لیا۔
تقریب کے دوران ایک اور غیر معمولی لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ٹرمپ کو ایک پرچی دی گئی، جو اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دکھائی گئی تھی۔ اس پرچھی کے بعد ماحول میں مزید بے چینی پیدا ہوئی۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی شام تھی، تاہم سکیورٹی اداروں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کی۔ انہوں نے سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہوں نے یہ تجویز دی کہ تقریب کا سلسلہ جاری رکھا جائے، تاہم حتمی فیصلہ سکیورٹی اداروں کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔
ذرائع کے مطابق گرفتار حملہ آور 31 سالہ شخص ہے جو ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
سکیورٹی حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ حملہ آور کے عزائم کیا تھے اور وہ سکیورٹی حصار تک کیسے پہنچا۔
