کراچی: انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ افسران ہی سندھ پولیس کا مستقبل ہیں، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن اور الیکٹرانک سرویلنس کے ذریعے پولیسنگ کا نظام مزید مؤثر، محفوظ اور عوام کے لیے قابلِ اعتماد بنایا جا رہا ہے۔
ناردرن بائی پاس مویشی منڈی میں جانوروں کی آمد تیز، فوڈ اسٹریٹ اور پارکنگ کی تیاریاں مکمل
یہ بات انہوں نے سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں قائم محمد علی شاہ آڈیٹوریم میں ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کے لیے منعقدہ "اسپیشلائزڈ ٹریننگ ورکشاپ” سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہوچکا ہے اور سندھ پولیس اس میدان میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن اور جدید نگرانی نظام کے باعث نہ صرف جرائم کی روک تھام میں بہتری آئی ہے بلکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کچے کے تقریباً 240 کلومیٹر علاقے کو بغیر کسی جانی نقصان کے ڈاکوؤں سے پاک کیا گیا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ پولیس میں اے ایس آئی سے لے کر ڈی ایس پی سطح تک تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افسران کی شرح کو 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا تاکہ ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوسکے۔
جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز فیلڈ کرائم فائٹرز ہیں اور ان کے پاس فیلڈ کی کمانڈ ہوتی ہے، اس لیے ان کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافہ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کورسز کے انعقاد سے افسران کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ورکشاپ میں انسداد دہشتگردی، سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم، سیف سٹی منصوبہ، وائٹ کالر کرائم، اسٹیک ہولڈرز مینجمنٹ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پولیس اخلاقیات اور عوامی شکایات کے ازالے سے متعلق جامع تربیت فراہم کی گئی۔
تقریب کے اختتام پر آئی جی سندھ نے کامیاب افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محکمہ پولیس کی نیک نامی میں مزید اضافہ کریں گے، جبکہ انہوں نے ڈی آئی جی ٹریننگ اور تربیتی عملے کی کاوشوں کو بھی سراہا۔


