کراچی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ گزشتہ تین سے چار سالوں کے دوران تقریباً 100 ارب ڈالر پاکستان سے باہر منتقل ہوئے، تاہم اگر تاجر صرف 20 سے 30 فیصد سرمایہ بھی واپس لے آئیں تو بجٹ سے قبل 10 ارب ڈالر سے زائد رقوم ملک میں واپس آسکتی ہیں۔
ناظم آباد میں افسوسناک حادثہ، ٹینکر کی زد میں آکر دو بہنیں جاں بحق، ایک زخمی
کراچی میں فیڈریشن ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور “روشن اکاؤنٹس” کے ذریعے بیرون ملک موجود رقوم واپس لانے کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جلد ویزا پالیسی سے متعلق تجاویز وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت بزنس فرینڈلی اصلاحات کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا جائے گا تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے تجویز دی کہ بزنس کمیونٹی کے لیے علیحدہ اور سہولت یافتہ پاسپورٹ سسٹم متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں 6 سے 7 بڑے کاروباری گروپس کی مالی ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی گئی ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث عناصر کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ منی چینجرز کے نظام اور بینکنگ چینلز کے کردار کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ اور شفاف ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ ہاؤسنگ، سیاحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بڑے منصوبے زیر غور ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں سیاحتی امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ استورا آئی لینڈ جیسے منصوبے ملک میں سیاحت کو نئی جہت دے سکتے ہیں۔
