کراچی: سندھ میں سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے صوبائی تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی (PTAC) کا اہم اجلاس وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وی آئی پیز، سرکاری عہدیداروں، علماء کرام اور دیگر شخصیات کو فراہم کردہ سیکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا گیا۔
سندھ میں آئوٹ آف اسکول بچوں کی تعلیم کے لیے 5 سالہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ پر اتفاق
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکیورٹی کی فراہمی صرف تھریٹ اسیسمنٹ کی بنیاد پر کی جائے گی، جبکہ غیر ضروری اور اضافی سیکیورٹی واپس لی جائے گی۔ وزیر داخلہ سندھ نے واضح ہدایت کی کہ کسی بھی فرد کو سیکیورٹی ذاتی خواہش یا دباؤ پر نہیں دی جائے گی بلکہ اس کا فیصلہ مکمل طور پر خطرات کی بنیاد پر ہوگا۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ تمام اداروں کی سیکیورٹی کا آڈٹ کیا جائے گا اور موجودہ سیکیورٹی ماحول کے پیش نظر مجموعی نظام کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے گا۔ اضافی پولیس نفری اور سرکاری گاڑیوں کی واپسی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ غیر ضروری پروٹوکول ختم کر کے سیکیورٹی فورسز کو مؤثر انداز میں تعینات کیا جائے، جبکہ نئی درخواستوں پر میرٹ اور سیکیورٹی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈویژن مقصود میمن نے اجلاس کو موجودہ سیکیورٹی حکمت عملی پر بریفنگ دی، جبکہ متعلقہ انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔
اجلاس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جیز، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور دیگر حساس اداروں کے افسران سمیت انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔
