سندھ میں آئوٹ آف اسکول بچوں کی تعلیم کے لیے 5 سالہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ پر اتفاق

کراچی: سندھ حکومت نے آئوٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پانچ سالہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد 2030 تک کم از کم 50 فیصد بچوں کو اسکول سسٹم میں شامل کرنا ہے۔

کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی مشترکہ منصوبہ بندی کا فیصلہ، کے ایم سی اور واٹر کارپوریشن کا اہم اقدام

یہ فیصلہ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور صوبائی وزیر جام خان شورو کی مشترکہ زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں متعلقہ سیکریٹریز، پارلیمانی سیکریٹری اور یونیسف کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ یونیسف کے چیف پریم بہادر چند اور ایجوکیشن اسپیشلسٹ آصف ابرار نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ آئوٹ آف اسکول بچوں کی بلند شرح صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے جسے مربوط حکمت عملی کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔

وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ بچوں کے اسکول سے باہر رہنے کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے متعدد سماجی و معاشی عوامل کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم میں کمی اور صنفی عدم توازن کو کم کرنا بھی اس روڈ میپ کا اہم حصہ ہوگا۔

صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ تعلیم، صحت، سماجی تحفظ، لوکل گورنمنٹ اور فنانس کے محکموں کی مشترکہ ذمہ داری سے ہی مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اجلاس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو مرکزی کوآرڈینیشن کا کردار دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

حکومتی حکمت عملی کے مطابق خصوصی “ڈلیوری یونٹ” اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا جائے گا تاکہ منصوبے کی پیش رفت کو ڈیٹا کی بنیاد پر مانیٹر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی شراکت داروں، ڈونرز اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھا کر وسائل میں اضافہ کیا جائے گا۔

روڈ میپ میں غریب خاندانوں کے لیے تعلیمی وظائف، کیش ٹرانسفر، اسکول حاضری سے منسلک مراعات، بچیوں کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ اور بہتر انفراسٹرکچر شامل ہوں گے، جبکہ نان فارمل ایجوکیشن اور ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز کو بھی حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ “ہر بچہ اسکول میں” ہدف کو عملی حقیقت میں تبدیل کیا جائے گا، اور اس حوالے سے حتمی منظوری وزیر اعلیٰ سندھ سے لی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!