لندن: ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی سے قبل امریکی صدر Donald Trump ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے جبکہ دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ عارضی جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف رہی۔
عوام دوست منڈی میں جانوروں کی آمد تیز
برطانوی جریدے Financial Times کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کئی ہفتوں سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ ایران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کرے، تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور عالمی توانائی کی ترسیل بحال ہو۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک اور ایک مؤثر ثالث کے طور پر ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی قیادت، خصوصاً Asim Munir کی نگرانی میں جاری بیک چینل سفارتی کوششیں بالآخر کامیاب ہوئیں۔
اخبار کے مطابق ان کوششوں کا نتیجہ منگل کی شب اس اعلان کی صورت میں سامنے آیا جس میں امریکا، اسرائیل اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو ایک پوری تہذیب کو تباہ کر دیا جائے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث امریکی صدر کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے، جب انہوں نے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس تمام صورتحال میں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی نہایت اہم ثابت ہوئی، جس نے نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت بھی منوائی۔
