تہران: ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہے تو وہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہونے پر غور کر سکتا ہے۔
کراچی: گورنر سندھ کی مداخلت پر تاجروں و ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال موخر
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اس صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے کہ صہیونی ریاست کی جانب سے لبنان کے خلاف جاری عسکری کارروائیاں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جس کے باعث معاہدے کی حیثیت متاثر ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی منصوبے میں امریکا نے تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا، جس میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں روکنا بھی شامل تھا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملوں کو اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نہ صرف جنگ بندی معاہدے سے علیحدگی کے امکان پر غور کر رہا ہے بلکہ اس کی مسلح افواج بھی لبنان پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ممکنہ اہداف کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
ذرائع نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اپنے اتحادی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا تو ایران خود صورتحال میں مداخلت کر سکتا ہے اور طاقت کے استعمال سمیت تمام آپشنز زیر غور لائے جا رہے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، جس پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔
