کراچی کی مقامی عدالت نے گیس لیکیج کے باعث ہونے والے جان لیوا دھماکے کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کو غفلت کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔
مقامی عدالت میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سال 2022 میں اورنگی ٹاؤن کی ملت کالونی میں گیس لیکیج کے باعث گھر میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں درخواست گزار کے والدین جاں بحق ہو گئے تھے۔ وکیل کے مطابق اس واقعے سے قبل متعدد بار گیس لائن کی خرابی کی شکایات درج کروائی گئی تھیں، تاہم متعلقہ ادارے نے بروقت مرمت نہیں کی۔
عدالت نے دلائل اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت سوئی سدرن گیس کمپنی کو ذمہ دار قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کمپنی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی پابند ہے، تاہم اس کیس میں وہ گیس لیکیج کی روک تھام میں ناکام رہی۔
عدالت نے کمپنی کو ایک ماہ کے اندر درخواست گزار کو 3 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ مزید برآں عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ کمپنی کے گواہ نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کردہ گیس بل کو درست تسلیم کیا، جو کیس میں اہم ثبوت ثابت ہوا۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ گیس کی ترسیل کرنے والے اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی تنصیبات کی باقاعدہ دیکھ بھال کریں اور کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری کارروائی کریں، تاکہ اس نوعیت کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
