وفاقی حکومت کی تازہ ترین سرکاری معلومات اور آرڈیننس کے مطابق، 2022 سے 2026 کے دوران پاکستان کے اراکینِ پارلیمان اور وزراء کی بنیادی تنخواہوں میں واضح اضافہ کیا گیا ہے۔ اب وفاقی وزراء اور اراکینِ قومی اسمبلی (MNAs) کی بنیادی تنخواہیں وفاقی سیکرٹری کے برابر کر دی گئی ہیں۔
ایران نے امریکی پائلٹ کی تلاش پر 66 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کر دیا
تنخواہوں کا موازنہ:
صوبائی سطح کی مثال کے طور پر، پنجاب اسمبلی میں:
صوبائی وزیر کی ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار روپے کر دی گئی۔
رکن صوبائی اسمبلی (MPA) کی بنیادی تنخواہ میں 5 سے 10 گنا اضافہ کیا گیا۔
جنوری 2025 سے نافذ العمل اضافے کے بعد تنخواہوں کی مجموعی صورتحال نمایاں ہو گئی۔
حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مراعات اور سہولیات:
1- وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت:
سرکاری رہائش: مفت فرنشڈ گھر یا ہاؤس رینٹ الاؤنس۔
ٹرانسپورٹ: 1300cc سے 1600cc تک کی سرکاری گاڑی اور ماہانہ 400 سے 600 لیٹر پیٹرول۔
طبی سہولیات: ملک کے بہترین ہسپتالوں میں مفت علاج اور ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک علاج کی سہولت، قومی خزانے کی منظوری کے بعد۔
2- اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی:
سفری الاؤنس: سالانہ 25 سے زائد بزنس کلاس ہوائی ٹکٹ یا 3 لاکھ روپے کے سفری واؤچرز۔
روزانہ الاؤنس (TA/DA): اجلاس میں شرکت کے دوران رہائش اور کھانے کے اخراجات۔
پاسپورٹ: اراکین اور ان کے خاندان کے لیے بلیو (آفیشل) پاسپورٹ۔
دیگر الاؤنسز: ٹیلیفون الاؤنس (تقریباً 10,000 روپے)، آفس مینٹیننس الاؤنس (8,000 روپے) اور یوٹیلیٹی بلز۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مراعات اور تنخواہیں عوام کے معیار زندگی سے بہت زیادہ ہیں، اور کرپشن یا عہدے کے اثرورسوخ سے اپنے اور فیملی کاروبار کو فائدہ پہنچانے کے مواقع اس میں شامل نہیں۔
