مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس میں 1.72 ارب روپے کے ہدفی سبسڈی پروگرام کے عملی نفاذ کے لیے طریقۂ کار، نظام اور حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی۔
پارلیمانی اور وزارتی تنخواہوں میں 2022 سے 2026 تک نمایاں اضافہ
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، مکیش کمار چاولہ، محمد بخش خان مہر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو قابل برداشت رکھنے اور صوبے کے ٹرانزٹ نظام کی بلا تعطل فعالیت یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کرایوں میں اضافے اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، جس کے پیش نظر “ٹارگٹڈ پیپلز فیول ڈیفرینشل سبسڈی” متعارف کرائی گئی ہے۔
اس پروگرام کے تحت بحران سے قبل اور موجودہ قیمتوں کے درمیان فرق کو پورا کیا جائے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو کرایہ نہ بڑھانے کی شرط پر ماہانہ مالی معاونت دی جائے گی۔ بسوں، منی بسوں اور کوچز کو فی گاڑی 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک، ویگنوں اور پک اپس کو 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے، چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار اور بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔
بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی کو روٹ کی لمبائی کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ طویل فاصلے کی بسوں کو ماہانہ 10 لاکھ 80 ہزار روپے تک دیے جائیں گے تاکہ صوبے بھر میں کرایوں کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
عوامی ریلیف کے تحت اپریل کے مہینے میں ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالک کو 2 ہزار روپے نقد بھی فراہم کیے جائیں گے، جس سے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عام سبسڈی کو غیر مؤثر اور مالی طور پر غیر پائیدار قرار دیتے ہوئے ہدفی حکمت عملی کو زیادہ مؤثر قرار دیا۔
شفافیت یقینی بنانے کے لیے سبسڈی کی ادائیگی ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے کی جائے گی، جو محکمہ ایکسائز اور ٹرانسپورٹ کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگی۔ تصدیق کے بعد رقم براہ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے آئندہ 15 دن تک دفاتر کے اوقات کار بڑھانے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
یہ 1.72 ارب روپے ماہانہ کا پروگرام تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرنے والے ٹرانسپورٹ نظام کو سہارا دے گا اور کرایوں کو مستحکم رکھنے کے ساتھ نجی گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریلیف کو شفاف اور بروقت انداز میں عوام تک پہنچایا جائے گا۔
