اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) – وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں نئے ڈیپ سی پورٹس کے مقامات کی نشاندہی اور پاکستان میری ٹائم انرجی سٹی کے قیام کے منصوبے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ملکی بحری شعبے کی ترقی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے طویل المدتی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
عوامی شکایات کیلئے سی ایم سیل فعال
محمد جنید انوار چوہدری نے اس موقع پر اعلان کیا کہ انرجی سٹی میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی جہاں تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کے ذخیرہ کرنے کے جدید نظام قائم ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کو علاقائی انرجی لاجسٹکس کا مرکز بنانا ہے، تاکہ ملکی ضروریات کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کے تقاضے بھی پورے کیے جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ٹرانس شپمنٹ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے اور انرجی سٹی میں عالمی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ منصوبے میں چھوٹے انرجی یونٹس بھی شامل کیے جائیں گے جو بڑی بندرگاہوں کی معاونت کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے ڈیپ سی پورٹس کی فیزیبلٹی رپورٹ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور ساحلی پٹی پر 3 سے 4 نئی بندرگاہیں قائم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کی تیاری میں صوبائی حکومتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سو سالہ وژن کے تحت ملکی بحری شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی جاری ہے تاکہ پاکستان نہ صرف اپنی داخلی ضروریات پوری کرے بلکہ خطے میں توانائی اور بحری تجارت کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرے۔
