اسلامی تعلیمات کے مطابق مسنون اعتکاف کے دوران بغیر کسی طبعی یا شرعی ضرورت کے مسجد سے باہر نکلنا اعتکاف کو فاسد کر سکتا ہے، جس کی بنیاد احادیثِ نبوی ﷺ پر ہے۔
بلوچستان میں امن کیلئے فیڈرل کانسٹیبلری تعینات کرنے کا فیصلہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ دورانِ اعتکاف مسجد ہی میں قیام فرماتے تھے اور صرف انسانی ضرورت کے تحت ہی باہر تشریف لے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک حجرۂ مبارکہ میں داخل کر دیتے تھے تاکہ ازواجِ مطہرات خدمت انجام دے سکیں، لیکن خود مسجد سے باہر قدم نہیں رکھتے تھے۔
مزید روایات کے مطابق معتکف کے لیے ضروری ہے کہ وہ دورانِ اعتکاف غیر ضروری مصروفیات سے اجتناب کرے، نہ بیمار کی عیادت کے لیے جائے، نہ جنازے میں شرکت کرے اور نہ ہی کسی دنیاوی ضرورت کے لیے مسجد سے باہر نکلے، الا یہ کہ کوئی ناگزیر شرعی یا طبعی حاجت پیش آئے۔
علمائے کرام کے مطابق اگر کوئی شخص بلا عذر مسجد سے باہر نکلتا ہے تو اس کا سنت مؤکدہ اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے، جس کی قضا ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کے ساتھ روزہ رکھ کر ادا کرنا ضروری ہے۔
