کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مشترکہ طور پر کی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی کا عید سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور امن و امان، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی، بھتہ خوری اور اسمگلنگ کے خاتمے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے دو ونگز پر مشتمل تقریباً 3 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو مزید فعال بنانے اور خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی مؤثر مانیٹرنگ پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ریاست کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈا میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں گی جبکہ وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا اور امن کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے اور یہ جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور صوبے میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کی معاونت قابل ستائش ہے۔
